In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-Salāmu ‘Alaykum Wa-Rahmatullāhi Wa-Barakātuh.
Respected brother,
You are correct in your understanding that Zakāh is due annually on all Zakāt-able assets that collectively reach the value of Nisāb even if Zakāh has been paid on those same assets the previous year.[1]
It should be noted however, that it is incorrect to say that Zakāh is due on net worth since the assets that make up one’s net worth are not all Zakāt-able.
And Allah Ta’ala Knows Best.
Adil Sadique
Student – Darul Iftaa
New York, USA
Checked and Approved by,
Mufti Muhammad Zakariyya Desai.
References
[1] «تحفة الفقهاء للسمرقندي (ت 540ه)، دار الكتب العلمية» (1/ 277):
«أما المستفاد بعد الحول فلا يضم بالإجماع في حق السنة الماضية وإنما يضم في حق الحول الذي استفيد فيه لأن النصاب بعد الحول كالمتجدد حكما لأنه يتجدد النماء بتجدد الحول والنصاب هو المال الموصوف بالنماء دون مطلق المال وإذا تجدد النماء جعل النصاب كالمتجدد ويجعل النصاب الموجود في الحول الأول كالعدم»
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع للكاساني (ت 587ه)، دار الكتب العلمية» (2/ 14):
«وأما المستفاد بعد الحول فلا يضم إلى الأصل في حق الحول الماضي بلا خلاف وإنما يضم إليه في حق الحول الذي استفيد فيه؛ لأن النصاب بعد مضي الحول عليه يجعل متجددا حكما كأنه انعدم الأول وحدث آخر؛ لأن شرط الوجوب وهو النماء يتجدد بتجدد الحول فيصير النصاب كالمتجدد، والموجود في الحول الأول يصير كالعدم»
The method of calculating Zakāh for prior unpaid years is proof that Zakāh is due on the same wealth repeatedly.
احسن الفتاوى (4/ 275-274):
سوال: ایک شخص نے دو تین سال کی زکوۃ ادا نہیں کی، اب وہ دوسرے اور تیسرے سال کی زکوۃ اداء کرتے وقت کل سرمایہ کی زکوۃ ادا کرے گا یا کہ پہلے سال کی زکوۃ نکالنے کے کرے گا؟ بینوا توجروا
الجواب باسم ملهم الصواب: پہلی زکوۃ منہا کرنے کے بعد جو رقم بچی دوسرے سال اس کی زکوۃ اداء کرے، پھر اس کے بعد جو رقم باقی ہے، تیسرے سال اس کی زکوۃ دے،
فتاوى قاسمية (10/ 301):
البتہ اس میں تفصیل یہ ہے کہ ۱۴/تولہ میں اول سال کیلئے چالیسواں حصہ زکوۃ میں ادا کر دیا جائے پھر دوسرے سال کیلئے چالیسواں منہا کے ما باقی میں سے چالیسواں حصہ زکوۃ میں دیں اس کے بعد جو بچے گا اس میں سے چالیسواں حصہ پھر تیسرے سال کیلئے زکوۃ میں دیں اس طرح ۱۹۵۲ء تک کرتے چلے آئیں